اسرائیل کا حملہ

اسرائیل کا حملہ

اسرائیلی فوج نے غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ اتوار کے روز بھی جاری رکھا ہے اور شمالی غزہ کے نزدیک تفاح کے علاقے میں کارروائی کی ہے۔ اسرائیلی فوج نے ایک فلسطینی کو ہلاک کر دیا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی فوج نے اتوار کے روز غزہ میں ڈرون حملہ کر کے چار مزید فلسطینیوں کو زخمی کر دیا ہے۔ ان واقعات میں جاں بحق اور زخمی ہونے والے افراد کے حوالے سے وزارت صحت غزہ نے تصدیق کر دی ہے۔محکمہ صحت کے طبی کارکنوں نے بتایا ہے کہ غزہ شہر میں تباہی سے بچ جانے والی ایک کثیر منزلہ عمارت کے اوپر پرواز کرتے ہوئے اسرائیلی ڈرون طیارے نے میزائل حملہ کیا اور نزدیکی گلی میں چار افراد کو زخمی کر دیا۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے ان واقعات کے بارے میں رابطے کے باوجود کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ یاد رہے اسرائیلی فوج نے دس اکتوبر 2025 سے شروع ہونے والی جنگ بندی کی پے در پے خلاف ورزیاں کرتے ہوئے غزہ کے مختلف علاقوں میں کم از کم 480 فلسطینی کو قتل کیا ہے۔
غزہ میں اسرائیلی جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک 71 ہزار سے زائد فلسطینی قتل کیے گئے ہیں۔
ادھر اسرائیلی فوج نے بھی کہا ہے کہ جنگ بندی کے بعد اب تک اس کے بھی 4 عدد فوجی مارے گئے ہیں۔ اسرائیلی فوج فلسطینی مزاحمتی گروپوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا اکثر الزام لگاتی رہتی ہے۔
اسرائیلی فوج نے جنگ بندی کی تازہ خلاف ورزیاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن بورڈ کے قیام کے اعلان کے بعد کی ہیں۔ ایک روز قبل امریکی خصوصی نمائندے سٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیریڈ کشنر نے اسرائیل میں وزیر اعظم نیتن یاہو کے ساتھ غزہ کے مستقبل کے حوالے سے ضروری مشاورت کی ہے۔

امن بورڈ کی صدارت خود صدرٹرمپ نے اپنے پاس رکھی ہے ۔ اب تک دو درجن سے زیادہ ملکوں نے امن بورڈ میں شرکت کی دعوت قبول کر لی ہے۔ اس مرحلے کو جنگ بندی معاہدے پر عمل کے دوسرے مرحلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

خان یونس میں اتوار کے روز اس فلسطینی کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔ جنازے میں بڑی تعداد میں فلسطینیوں نے شرکت کی۔اس فلسطینی کو اسرائیلی ڈرون طیارے سے ایک روز قبل شہید کیا گیا تھا۔ شہید فلسطینی کے ایک رشتہ دار نے کہا اسرائیل نے کوئی جنگ بندی نہیں کی۔ آئے روز فلسطینی شہید کیے جارہے ہیں اور نہتے فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج کے حملے جاری ہیں

زائرین :
2
4
0
3
3